Articles by "Javed Mehdi"
Showing posts with label Javed Mehdi. Show all posts
نہ دن اچھا گزرے نہ رات راس آئے مجھے
ان دنوں یہ کیا ہو گیا ہے ہائے مجھے

اک ضبط ہے جو رہ رہ کے ہاتھ چھوڑے میرا
اک درد ہے جو اٹھ اٹھ کے منہ دکھائے مجھے

عجب حال کہ میں جتنا تجھے بھلانا چاہوں
بچھڑنے والے تو اتنا ہی یاد آئے مجھے

مجھے تو منانے میں کوئی حرج نہیں لیکن یار
دل کی ضد ہے کہ اب کی بار تو منائے مجھے

عشق زندگی ہے تو میں اسے جینا چاہوں
عشق موت ہے تو بسم اللّٰہ آ جائے مجھے

میں بات بات پہ دلائل دینے والا شخص
آج الجھ گیا ہوں کوئی ہے جو سلجھائے مجھے

اب تو اک ہی تمنا ہے تیرے دیوانے کی
عشق انتہا کو پہنچے گلی گلی میں نچائے مجھے

کیا بتاؤں کہ وہ پورے اطمینان سے سونے والا
مجھ میں پہرا دے رات بھر جگائے مجھے

میں جن کے واسطے زمانے کو ٹھکراتا رہا
جاوید افسوس آج وہ بھی نہ مل پائے مجھے
جاوید مہدی